پاکستان کے قیام کے پس پردہ سیاسی حقائق

پاکستان کا قیام محض ایک جغرافیائی تقسیم یا ایک نئی ریاست کا وجود میں آنا نہیں تھا، بلکہ یہ ایک طویل سیاسی، سماجی اور فکری جدوجہد کا نتیجہ تھا۔ بہت سے عوامل اور سیاسی حقائق ایسے تھے جنہوں نے 14 اگست 1947 کو پاکستان کے خواب کو حقیقت بنایا۔ اس بلاگ میں ہم انہی پس پردہ سیاسی حقائق کا تجزیہ کریں گے تاکہ قارئین بہتر طور پر سمجھ سکیں کہ برصغیر کے مسلمانوں نے کس طرح ایک علیحدہ وطن کے لیے اپنی کاوشیں جاری رکھیں۔

ہندو مسلم تنازعات اور دو قومی نظریہ

برصغیر کی تاریخ میں ہندو اور مسلمان صدیوں سے ایک ساتھ رہتے آئے تھے، مگر ان کی تہذیب، مذہب اور سماجی ڈھانچے میں واضح فرق موجود تھا۔ ہندو ذات پات کے نظام اور مذہبی رسومات کو اپنی پہچان سمجھتے تھے جبکہ مسلمان قرآن و سنت پر مبنی زندگی گزارنے کے قائل تھے۔

دو قومی نظریہ دراصل اسی فرق کو اجاگر کرتا تھا کہ ہندو اور مسلمان دو الگ قومیں ہیں اور ان کا ایک ریاست میں یکساں طور پر رہنا مشکل ہے۔ یہ نظریہ بعد میں قیامِ پاکستان کی بنیاد بنا۔

کانگریس کی سیاست اور مسلمانوں کی محرومیاں

1857 کی جنگ آزادی کے بعد انگریزوں نے ہندوؤں کو زیادہ قریب کر لیا اور انہیں تعلیم اور سیاست میں آگے بڑھنے کا موقع دیا۔ جب انڈین نیشنل کانگریس بنی تو مسلمانوں نے بھی اس میں شمولیت اختیار کی، لیکن جلد ہی یہ حقیقت سامنے آ گئی کہ کانگریس دراصل “ہندو اکثریت” کی نمائندہ جماعت ہے۔

کانگریس کے فیصلے زیادہ تر ہندوؤں کے حق میں ہوتے، جس کی وجہ سے مسلمانوں کو خدشہ تھا کہ اگر انگریز چلے گئے اور کانگریس کو مکمل اختیار مل گیا تو مسلمانوں کی حیثیت مزید کمزور ہو جائے گی۔

آل انڈیا مسلم لیگ کا قیام

1906 میں ڈھاکہ میں آل انڈیا مسلم لیگ کا قیام دراصل مسلمانوں کے سیاسی حقوق کے تحفظ کے لیے کیا گیا۔ اس جماعت نے مسلمانوں کے مسائل کو اجاگر کیا اور بتدریج مسلمانوں کو ایک علیحدہ شناخت دلانے میں اہم کردار ادا کیا۔

مسلم لیگ نے 1909 کے منٹو مارلے اصلاحات کے ذریعے جداگانہ انتخابی نظام کا مطالبہ کیا، جو مسلمانوں کی سیاسی بقا کے لیے نہایت اہم قدم تھا۔

. جناح کی قیادت

قائداعظم شروع میں کانگریس کے ساتھ تھے اور ہندو مسلم اتحاد کے علمبردار سمجھے جاتے تھے۔ لیکن کانگریس کی تنگ نظری اور ہندو قیادت کے رویے نے انہیں مایوس کیا۔ انہوں نے مسلم لیگ کو مضبوط بنایا اور مسلمانوں کو ایک علیحدہ قوم کے طور پر منظم کیا۔

ان کا یہ مشہور جملہ آج بھی یاد رکھا جاتا ہے:
ہندو اور مسلمان دو الگ قومیں ہیں، ان کے مذہب، روایات اور ہیروز مختلف ہیں، ان کا ایک قوم بن جانا ناممکن ہے۔

قائداعظم کی بصیرت اور ناقابلِ شکست عزم نے ہی پاکستان کے قیام کو ممکن بنایا۔

1937 کے انتخابات اور مسلمانوں کی مایوسی

1937 کے انتخابات میں کانگریس کو زیادہ سیٹیں ملیں اور کانگریس نے کئی صوبوں میں حکومتیں بنائیں۔ ان حکومتوں نے مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک کیا:

اردو زبان کو نقصان پہنچانے کی کوششیں

تعلیمی اداروں میں ہندو کلچر کو فروغ

مسلمانوں کی مذہبی آزادی پر قدغن

ان واقعات نے مسلمانوں کو اس نتیجے پر پہنچایا کہ ہندو اکثریت کے ساتھ رہنا ناممکن ہے۔

قرارداد لاہور (1940)

23 مارچ 1940 کو لاہور میں مسلم لیگ کے اجلاس میں وہ تاریخی قرارداد منظور ہوئی جسے بعد میں قرارداد پاکستان کہا جانے لگا۔ اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ برصغیر کے مسلمانوں کے لیے الگ ریاستیں بنائی جائیں تاکہ وہ اپنے دین و ثقافت کے مطابق زندگی گزار سکیں۔

یہی قرارداد بعد میں قیام پاکستان کی بنیاد بنی۔

دوسری جنگ عظیم اور سیاسی دباؤ

دوسری جنگ عظیم کے دوران انگریزوں کو برصغیر کی سیاسی جماعتوں کی ضرورت پڑی۔ کانگریس نے انگریزوں کے ساتھ تعاون سے انکار کیا، جبکہ مسلم لیگ نے اپنی سیاسی طاقت بڑھانے کے لیے موقع کا فائدہ اٹھایا۔ انگریزوں نے مسلمانوں کو نظرانداز نہیں کیا اور یوں مسلم لیگ کی پوزیشن مزید مستحکم ہوئی۔

قیام پاکستان کے آخری مراحل

1945-46 کے انتخابات میں مسلم لیگ نے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی، جو اس بات کا ثبوت تھا کہ مسلمان صرف مسلم لیگ کی قیادت پر اعتماد کرتے ہیں۔ اس کے بعد انگریزوں کے پاس کوئی دوسرا راستہ نہ رہا سوائے اس کے کہ وہ مسلمانوں کے علیحدہ وطن کے مطالبے کو تسلیم کریں۔

بالآخر 14 اگست 1947 کو پاکستان ایک آزاد اسلامی ریاست کے طور پر دنیا کے نقشے پر نمودار ہوا۔

نتیجہ

پاکستان کا قیام محض ایک حادثہ یا وقتی فیصلہ نہیں تھا، بلکہ یہ ایک سوچا سمجھا سیاسی عمل تھا جس میں کئی دہائیوں کی جدوجہد شامل تھی۔ ہندو مسلم اختلافات، کانگریس کی سیاست، مسلم لیگ کا کردار، قائداعظم کی قیادت اور قرارداد لاہور جیسے تاریخی واقعات وہ عوامل ہیں جنہوں نے پاکستان کی بنیاد رکھی۔

پاکستان دراصل ایک نظریے کا نام ہے — ایسا نظریہ جو مسلمانوں کو اپنی شناخت اور اپنے دین کے مطابق جینے کا حق دیتا ہے۔

LEAVE A COMMENT