پیدائش اور ابتدائی تعلیم و تربیت
فاتح قسطنطنیہ سلطان محمد فاتح لیے 1455ء میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد سلطان مراد خاں نے آپ کی تعلیم و تربیت کا بہت اچھا اہتمام کیا جس کے لئے بڑے بڑے لائق فائق علماء کو مقرر کیا گیا تھا۔ چنانچہ سلطان محمد فاتح اپنی مادری زبان ترکی کے علاوہ عربی فارسی لاطینی، عبرانی اور یونانی وغیرہ میں بھی پوری مہارت رکھتے تھے۔
کم عمری میں تخت نشینی اور سیاسی صورتحال
سلطان محمد فاتح کی عمر ابھی صرف 14 برس کی تھی کہ آپ کے بڑے بھائی علاوء الدین کی موت کے صدمے نے آپ کے والد سلطان مراد خان کو دنیا سے دل برداشتہ کر دیا اور وہ سلطان محمد فاتح کو تخت پر بٹھا کر خود گوشہ نشین ہو گئے تھے لیکن ابھی چند ماہ بھی نہ گزرنے پائے تھے کہ عیسائیوں نے یہ دیکھ کر کہ مراد خاں ایسے بہادر، نڈر اور عظمند سلطان کی بجائے ایک چودہ سالہ بچہ حکومت کے تخت پر بیٹھا ہوا ہے سلطنت عثمانیہ پر قبضہ کرنے کا پختہ ارادہ کر لیا اور اس کے لئے تیاری کرنے لگے۔
بلغاریہ پر حملہ اور شاہ ہنگری کی بدعہدی
بلغاریہ کی سلطنت عثمانی مقبوضات میں شامل تھی۔ چنانچہ شاہ ہنگری نے پوپ کے اس اشارے پر کہ مسلمانوں کے ساتھ بد عہدی کرنے میں کوئی گناہ نہیں ہے تمام تر عہد و بیان کا لحاظ کئے بغیر بلغاریہ پر حملہ کر دیا۔ یہ وہ شاہ ہنگری تھا جس نے انجیل لے کر قسمیں کھائی تھیں اور دس برس کے لئے صلح کی تھی اور وعدہ کیا تھا کہ وہ اس وعدے کی پابندی ایک مذہبی فریضہ کے طور پر کرے گا۔
مراد خان کی واپسی اور فیصلہ کن جنگ
شاہ ہنگری کی شدید ترین بد عہدی کی وجہ سے سلطان مراد خاں کو گوشہ نشینی ترک کرنا پڑی۔ وہ گوشہ خلوت سے باہر نکلا اور عیسائیوں کے مقابل آکر کھڑا ہو گیا۔ ابتداء میں عیسائیوں کا پلہ بھاری رہا لیکن عین اس وقت جب عیسائیوں کا جوش و خروش غضبناک صورت اختیار کر گیا ترکوں نے کمال ہمت سے کاملے کر ان کے سرغنہ کا سر کاٹ لیا۔
شکستِ عیسائیت اور دوبارہ تخت نشینی
ترکوں کے علم کی دوسری شاخ پر جب عیسائیوں نے شاہ ہنگری کا کٹا ہوا سر دیکھا تو نا کے سارے ولولے اور حو صلے ماند پڑ گئے اور لشکر میں کہرام و ہنگامہ مچ گیا۔ پھر جس کی نے بھی موقعہ پایا وہ اپنی جان بچا کر میدان جنگ سے بھاگ نکلا۔ سلطان مراد خان نے دوسری مرتبہ پھر سلطان محمد فاتح کو تخت پر رونق افروز کر دیا اور خود ایک مرتبہ پھرگوشہ نشینی کی زندگی گزارنے لگا۔ہنگری سلطنت کے ایک جنرل جان ہو نیاد نے کئی مغربی امراء کو اپنے ساتھ ملا کر بغاوت کر دی۔
سلطان مراد خاں کی واپسی
چنانچہ سلطان مراد خاں کو ایک مرتبہ پھر گوشہ نشینی ترک کر کے مجبوراً گوشہ خلوت سے باہر نکلنا پڑا۔ سلطان مراد خاں اور جنرل جان ہو نیاد کی متحد فوجوں کے درمیان تین دن تک زبر دست معرکہ آرائیاں ہوتی رہیں اور آخر کار چوتھے دن جزل جان ہو نیاد حسب سابق میدان جنگ سے بھاگ نکلا۔ اس جنگ کے بعد بظاہر مغربی طاقتیں کچھ عرصہ کے لئے خاموش ہو کر بیٹھ گئیں۔دو برس کا عرصہ گزرا تھا کہ سکندریہ نامی ایک نو مسلم کی بیٹی سے سلطان محمد کی شادی ہو گئی۔
شادی اور ولی عہدی
اس دوران سلطان محمد ولی عہد سلطنت کی یثیت سے مختلف شعبوں میں چھ سال تک تجربات حاصل کرتا رہا حتی کہ وہ گھڑی بھی آن پہنچی کہ جب دو مرتبہ کی تخت نشینی و معزولی کے بعد اکیس برس کی عمر میں سلطان محمد کو مستقل طور پر تخت نشین کر دیا گیا۔ اب وہ ہر فیصلہ کرنے کا اختیار رکھتا تھا۔ سلطان محمد فاتح اپنے والد سلطان مراد خاں کے انتقال کے بعد 1479ء میں تیسری مرتبہ مستقل طور پر تخت نشین ہوا تھا۔
تخت نشینی و چیلنجز
چنانچہ تمام ہمسایہ ملکوں کے سفیر مبارکباد دینے کے لئے سلطان محمد فاتح کے پاس آئے مگر اناطولیہ کے امراء نے اب بھی اسے چودہ سال کا ایک نو عمر بچہ خیال کیا تھا اور اس خیال سے کہ ترکان عثمانیہ نے ان کے جن مقبوضات کو فتح کر لیا ہے انہیں ترکوں سے واپس چھین لینے کا مصمم فیصلہ کر لیا۔ چنانچہ انہوں نے سلطان محمد فاتح کے خلاف میدان کارزار گرم کر دیا۔ اگرچہ امراء اور ترکوں کے درمیان کئی ایک خونریز معرکے ہوئے تاہم سلطان محمد فاتح کو ہر موقعہ پر ان پر برتری حاصل رہی۔
فتوحات اور تیاری
یوں تو سلطان محمد فاتح کی بے شمار فتوحات ہیں لیکن ان میں قسطنطنیہ کی فتح سب سے زیادہ اہمیت کی حامل ہے۔ اس کے لئے سلطان محمد فالح نے وسیع پیمانے پر تیاریاں کی تھیں۔ چیدہ چیدہ سپہ سالار توپ خانہ اور بحری بیڑا تیار کیا تھا۔ حضرت محمد صلى الله عليه وسلم کی طرف پشین گوئی منسوب ہے کہ ” تم ضرور قسطنطنیہ فتح کرو گے۔ وہ فاتح بھی خوب ہے اور اس کا امیر بھی خوب ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی فرمایا تھا کہ ”میری امت کا پہلا لشکر جو قیصر کے شہر پر حملہ کرے گا اس کو اللہ تعالی نے بخش دیا ہے۔”
قسطنطنیہ کی فتح
اس سے بخوبی اندازہ ہو سکتا ہے کہ مسلمانوں نے اس سعادت کو حاصل کرنے کے لئے کیا کچھ نہ کیا ہو گا۔ چنانچہ اس سلسلہ میں امیر معاویہ بنی اللہ (تاریخ اسلام)کے عہد ہی سے قطنطنیہ پر حملے شروع ہو گئے تھے۔ ایسے آٹھ حملے ہوئے تھے مگر کسی میں کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔ اصل میں کامیابی کا سہرا سلطان محمد فاتح کا منتظر تھا۔ یہ سعادت اور عزت اس کے حصے میں آنے والی تھی۔ سلطان محمد فاتح صرف اکیس برس کی عمر میں باقاعدہ طور پر ترکی کے تخت پر بیٹھ گیا تھا۔
پختہ عمر اور قسطنطین کی دھمکی
اگر چہ (جیسا کہ پہلے لکھا جا چکا ہے) دو مرتبہ اس سے پہلے بھی وہ تخت سنبھال چکا تھا لیکن وہ سلطان محمد کی نو عمری کا زمانہ تھا۔ اکیس برس میں وہ پختہ عمر ہو چکا تھا۔ اس وقت قسطنطنیہ کا رومی یا بازنطینی بادشاہ قسطنطنیہ کا رومی یا بازنطینی بادشاہ قسطنطین یازدہم تھا۔ اس نے ایک ایسی حرکت کی جس سے سلطان محمد سخت برہم ہو گیا۔ بات یہ ہوئی تھی کہ ایک ترکی شہزادہ قسطنطنیہ میں نظر بند تھا۔ اس کا خرچہ سلطان محمد کی طرف سے ادا کیا جاتا تھا۔
سلطان کا مصروف دور اور سفیروں کی واپسی
اور خاں نے مطالبہ کیا کہ اس کے خرچ میں اضافہ کیا جائے اور ساتھ ہی دھمکی بھی دی کہ اگر ایسا نہ کیا گیا تو اور خاں کو سلطان کے مد مقابل لا کھڑا کیا جائے گا۔ قسطنطین یازدہم نے دراصل یہ سوچا تھا کہ سلطان محمد کی عمر صرف اکیس برس کی ہے۔ نا تجربہ کار ہے اسی لئے بہت زیادہ دانش اور فوجی صلاحیتوں کا مالک نہیں ہو گا۔ اس وقت سلطان محمد ایشیائے کوچک میں بعض فتنوں کو کچلنے میں مصروف تھا اسی لئے اس نے بازنطینی سفیروں کو جب ہ قسطنطین کا پیغام لے کر آئے تھے تو کسی بہانے سے انہیں ٹال دیا۔
خلیل پاشا کا دوٹوک جواب
مگر سلطان محمد کے وزیر اعظم خلیل پاشا نے سفیروں سے کہا کہ ”تمہاری حماقت تطنطنیہ کو سلطان محمد کے ہاتھوں میں دے کر رہے گی۔ تم اور خاں کے سلطان ہونے کا اعلان کرو۔ جس کو چاہو اپنی مدد کے لئے بلاؤ۔ جو صوبے واپس لے سکتے ہو لے لو لیکن بہت جلد تم کو بازنطینی سلطنت کا خاتمہ نظر آجائے گا۔”حقیقت یہ ہے کہ سلطان محمد فاتح نے تخت نشین ہوتے ہی قسطنطنیہ کو فتح کرنے کا بافتہ فیصلہ کر لیا تھا مگر اس نئے واقعہ سے یہ فیصلہ اور بھی زیادہ متحکم ہو گیا۔
فتحِ قسطنطنیہ کا حتمی فیصلہ
بازنطینی سلطنت کے تمام ایشیائی علاقوں پر ترکوں کا قبضہ ہو چکا تھا مگر اس وقت بھی قسطنطنیہ کی اہمیت کچھ کم نہ تھی۔ یہ شہر اپنے موقع کے لحاظ سے سلطنت عثمانیہ کا قدرتی پایہ تخت تھا۔ بحیرۂ کار مورا کے دونوں ساحلوں پر ترکوں کی حکومت تھی اور قسطنطنیہ پر عیسائیوں کا قبضہ رہنے کامطلب یہ تھا کہ ان کے ایشیائی اور یورپی صوبوں کا درمیانی تعلق کبھی محفوظ نہیں ہو سکتا تھا۔ اس کے علاوہ جیسا کہ بتایا جا چکا ہے کہ عیسائی اس شہر کو بڑی عزت و احترام سے دیکھتے تھے اس لئے ترکی سلطنت کی حفاظت اور بقاء کے لئے اس کا فتح کرنا بہت ضروری تھا۔
فوجی تیاریاں اور نیا قلعہ
قسطنطنیہ پر قبضہ کرنے کے لئے یہ سبب ہی بہت تھے۔ مگر قسطنطین یازدہم کی دھمکی نے ایک سبب کا اور اضافہ کر دیا تھا۔ سلطان محمد نے مقصد کے حصول کے لئے عظیم الشان فوجی تیاریاں شروع کر دیں۔ سب سے پہلے اس نے ایسا انتظام کیا کہ حملہ کے دوران میں ملک کے کسی حصہ میں کوئی شورش برپا نہ ہونے پائے۔ پھر اس نے آبنائے باسفورس کے یورپی ساحل پر اور قسطنطنیہ سے تقریباً پانچ میل کے فاصلہ پر ایک زبر دست قلعہ بنوانا شروع کر دیا۔
قسطنطین کا احتجاج اور اعلانِ جنگ
قسطنطین نے اس قلعہ کی تعمیر کے خلاف صدائے احتجاج بلند کی مگر سلطان نے اس کو نظر انداز کر دیا۔ اسے اس سے صاف معلوم ہو گیا کہ یہ تمام تیاریاں اصل میں اس کے پایہ تخت پر حملہ کے لئے ہو رہی ہیں۔ اس نے مارے ڈر کے شہر کے پھاٹک بند کروا دیئے۔ اس دوران میں ترکی اور یونان کے سپاہیوں میں ایک چھوٹی سی جھڑپ ہو گئی۔ قسطنطین نے سلطان سے اس کی شکایت کی۔ اس کا جواب اعلان جنگ سے دیا گیا۔
باسفورس پر قبضہ اور فوج کی تیاری
1453ء میں نیا قلعہ بن کر تیار ہو گیا۔ اب تقریباً تمام آبنائے باسفورس ترکوں کے قبضہ میں تھی۔ کوئی جہاز ان کی اجازت کے بغیر اس میں سے نہیں گزر سکتا تھا۔ اس دوران میں سلطان محمد نے شہر اور نہ میں ڈیڑھ لاکھ فوج جمع کر لی تھی مگر قسطنطنیہ فتح کرنے کے لئے صرف فوج ہی کافی نہیں تھی چاہے اس کی تعداد کئی لاکھ ہی کیوں نہ ہوتی۔ یہ شہر تکون کی مانند تھا۔ اس کے دو حصے پانی سے گھرے ہوئے تھے۔ شمال میں شاخ زریں اور جنوب میں بحیرہ مار مورا تھا۔
قسطنطنیہ کی مضبوط فصیلیں
بڑی فوجیں صرف تیسرے حصہ پر حملہ کر سکتی تھیں جو مغرب کی جانب واقع تھا مگر اس کی حفاظت کے لئے تین مضبوط دیواریں بنی ہوئی تھیں۔ تو ہوں کی ایجاد سے پہلے یہ دیواریں ہر قسم کے حملہ سے محفوظ خیال کی جاتی تھیں۔ اندر کی دو دیواریں تو بہت موٹی تھیں۔ اور ان پر کئی م برج بنے ہوئے تھے۔ ان دیواروں کے درمیان سات فٹ کا فاصلہ تھا۔ بیرونی جانب دوسری اور تیسری دیوار کے درمیان میں سات فٹ چوڑی ایک خندق تھی جس کی گہرائی 100 فٹ تھی۔ اب تک ان دیواروں کوکوئی نہیں توڑ سکا تھا۔
زبردست توپوں کی تیاری
قسطنطنیہ کی تسخیر کے لئے ضروری تھا کہ ان دیواروں پر کامیابی سے گولہ باری کی جائے۔ اگر چہ سلطان محمد کے پاس توپوں کا ایک معقول ذخیرہ موجود تھا لیکن کار کردگی میں یہ ناکانی خیال کی جا رہی تھیں۔ چنانچہ سلطان محمد نے خاص طور سے بڑی تو ہیں بنوائی شروع کیں اور اس کے علاوہ ہنگری کے ایک انجنیر نے ایک نہایت زبردست توپ بنائی جس کے گولے کا قطر اڑھائی فٹ تھا۔
بحری بیڑہ اور قسطنطین کی تیاریاں
سلطان نے محاصرہ کے لئے ایک بحری بیڑہ بھی تیار کر لیا تھا۔ اس میں ایک سو اسی جہاز موجود تھے۔ یہ تمام کام سلطان محمد نے خود اپنی نگرانی میں کرائے تھے اور خیال رکھا تھا کہ ان میں کوئی کمی نہ رہ جائے۔قسطنطین یازدہم بھی ان تیاریوں سے ہرگز بے خبر نہیں تھا۔ وہ بھی اپنی حفاظت کے لئے ہر ممکن کوششوں میں مصروف تھا۔ اس نے شہر کی دیواروں کی از سر نو مرمت کروائی اور سامان خورد و نوش جس قدر جمع کر سکتا تھا کر لیا۔
عیسائی بادشاہوں کی مدد
پھر اس نے عیسائی بادشاہوں سے مدد کی درخواست کی۔ اگرچہ اس کا خاطر خواہ اثر تو نہ ہوا تاہم کئی بادشاہوں نے اپنے اپنے فوجی دستے قسطنطین کی امداد کے لئے روانہ کر دیئے۔ حکومت جنیوا نے قسطنطین کو سب سے زیادہ مدد فراہم کی۔ اس کا مشہور اور دلیر کمانڈر جان جنشیانی دو جنگی جہازوں اور سات سو منتخب بہادروں کے ساتھ محاصرہ شروع ہونے سے چند روز قبل قسطنطنیہ پہنچ گیا۔
جان جنشیانی کی آمد اور بہادری
یہ کمانڈر اپنی شجاعت اور فوجی قابلیت کے لحاظ سے تنہا ایک فوج کے برابر تھا اور واقعی محاصرہ کے دوران میں اس نے ایسی بہادری کا ثبوت دیا کہ سلطان محمد کو بھی اس کی تعریف کرنی پڑی۔ قسطنطین کے لئے یہ کمانڈر ایک نعمت سے کم ثابت نہ ہوا۔محاصرہ قسطنطنیہ 19 اپریل 1453ء کو شروع ہوا۔ یونانی سپاہیوں نے بڑی دلیری کا مظاہرہ کیا۔ بڑی فوج کے حملہ کا ابھی ذرا بھی اثر ظاہر نہ ہونے پایا تھا کہ اچانک ایک مختصر سی بحری جنگ پیش آگئی۔ ہوا یہ کہ ایک یونانی اور جنیوا کے چار جہاز اہل قسطنطنیہ کے لئے رسد لا رہے تھے۔
سمندری جھڑپ اور جنیوا کے جہاز
بحیرہ مار مورا کو عبور کرنے کے بعد جب وہ آبنائے باسفورس میں داخل ہوئے تو ایک سو چالیس ترک کشتیاں ان کا راستہ روکے کھڑی تھیں۔ جس وقت یہ جہاز بندرگاہ کے قریب پہنچے تو ترکی بیڑہ نے حملہ کر دیا مگر جنیوا کے جہاز ترکی کشتیوں کے مقابلہ میں بہت اونچے اور طاقتور تھے۔ انہوں نے ترکی کشتیوں پر آگ اور پتھروں کی بارش شروع کر دی جس سے ان میں افرا تفری پیدا ہو گئی۔سلطان ساحل پر کھڑا یہ نظارہ دیکھ رہا تھا۔
باسفورس کی شکست سے حاصل سبق
اس نے بے اختیار ہو کر اپنا گھوڑا سمندر میں ڈال دیا مگر اس وقت تک جنیوا کے جہازوں کو نکل جانے کا راستہ مل گیا تھا اور وہ بندرگاہ میں بحفاظت داخل ہو چکے تھے۔ اس سے اہل قسطنطنیہ بہت خوش ہوئے اور ان کے حوصلے بڑھ گئے۔ یہ ہلکی سی مبارزت ترکوں کے لئے مفید ہی ثابت ہوئی۔ سلطان محمد نے فورا محسوس کر لیا کہ آبنائے باسفورس کے اس حملہ میں جہاں پانی گہرا ہو گا، ترکی بیڑہ عیسائیوں کے طاقتور جہازوں کے مقابلہ میں کامیاب نہیں ہو سکتا اور اس صورت میں صرف ناکامی ہی مقدر بن سکتی ہے۔
حیران کن تدبیر: خشکی پر جہاز رانی
چنانچہ سلطان نے سوچا کہ ہماری کشتیوں کی بڑی تعداد بندرگاہ کے بالائی حصہ میں منتقل ہو جائے تو اچھا ہے۔ اس حصہ میں پانی بہت کم گہرا ہے۔ اور وہاں عیسائی جہاز نہیں جا سکتے ہیں۔ مگر مشکل یہ تھی کہ سمندر کے راستہ سے بندرگاہ کے اس حصہ تک پہنچنا ممکن نہ تھا۔ کیونکہ درمیان میں خشکی تھی۔ اس مشکل کو دور کرنے کے لئے سلطان محمد نے جو تدبیر سوچی وہ اس کی ذہانت اور عزم و استقلال کی نہ مٹنے والی مثال ہے۔ اس تدبیر پر عمل کر کے سلطان محمد نے ساری دنیا کو حیرت میں ڈال دیا۔
ترک بیڑہ بندرگاہ میں داخل
باسفورس قسطنطنیہ کی بندرگاہ کے درمیان پانچ میل کا فاصلہ ہے۔ اور زمین پہاڑی ہے۔ سلطان محمد نے اس درمیانی زمین پر لکڑی کے تختوں کی ایک سڑک بنوائی اور ان تختوں پر چربی لگوا کر انہیں خوب اچھی طرح چکنا کر دیا اور پھر ایک رات کے اندر اندر 80 کشتیاں بیلوں سے کھنچوا کر بندرگاہ کے اس حصہ میں پہنچا دیں۔ قسطنطنیہ کا یہ حصہ اب تک بالکل محفوظ تھا۔ ترکی کشتیوں کے بیچ جانے سے ادھر سے بھی حملہ کی صورت پیدا ہو گئی۔
عیسائیوں کی گھبراہٹ اور پیشگوئی
جب عیسائیوں کو پتہ کو چلا کہ سلطان نے لکڑی کے تختوں کا راستہ بنا کر خشکی میں جہاز چلا دیئے ہیں تو انہوں نے اسے معجزہ سے منسوب کیا اور ان کو یقین ہو گیا کہ اب قسطنطنیہ کا بچنا محال ہے کیونکہ انہوں نے بچپن ہی سے یہ سن رکھا تھا کہ جو شخص خشکی میں جہاز چلائے گا وہ قسطنطنیہ کا فاتح ہو گا۔اس دوران میں شہر کی دوسری سمتوں سے برابر حملے ہو رہے تھے۔ جب ان زبر دست دیواروں پر تین جگہ سوراخ ہو گئے تو سلطان محمد کو یقین ہو گیا کہ اب یہ شہر ضرور فتح ہو جائے گا۔
دیواروں میں شگاف اور فیصلہ کن مرحلہ
24 مئی 1456ء کو اس نے قسطنطین یازدہم کے پاس پیغام بھیجا کہااگر وہ شہر ترکوں کے حوالے کر دے تو رعایا کی جان و مال محفوظ رہے گی اور اسے موریا کی حکومت دے دی جائے گی۔ مگر قیصر نے اسے سختی سے نا منظور کر دیا۔ چنانچہ سلطان محمد فاتح نے اعلان کر دیا کہ پانچ روز بعد آخری حملہ کر دیا جائے گا۔ جس روز حملہ ہونے والا تھا اس سے ایک رات قبل مسلمان سپاہیوں نے خوب عبادت کی اور اللہ سے فتح و نصرت کی دعائیں مانگی گئیں۔ فجر کی نماز کی ادائیگی کے بعد حملہ شروع کر دیا گیا۔ حملے اگرچہ ہر طرف سے ہو رہے تھے مگر زیادہ زور اس حصہ پر تھا جہاں ترکوں کی گولہ باری سے دیوار میں شگاف پڑ گیا تھا۔
ترک سپاہیوں کی ابتدائی ناکامی
مگر دوپہر سے پہلے انتہائی کوششوں کے باوجود ایک بھی ترک سپاہی شہر کے اندر داخل نہ ہو سکا۔ قیصر اور اس کے سپاہیوں نے بڑی جانبازی کا ثبوت دیا اور ترکوں کے حملے کو روکے رہے۔ لیکن ادھر سلطان محمد بھی فولاد کا بنا ہوا تھا اور وہ اپنے خاص دستہ کو لے کر آگے بڑھ رہا تھا۔ اس وقت تک یونانی بالکل خستہ ہو چکے تھے اور ان میں اس تازہ حملہ کو روکنے کی ذرا بھی سکت نہیں رہی تھی۔ پھر عین موقع پر جنشیانی کو ایک کاری زخم لگا اور وہ کچھ اس بری طرح سے گھبرا گیا کہ لڑائی سے الگ ہو گیا۔ ایسے نازک وقت میں قیصر کے لئے یہ بہت سخت دھچکا تھا۔
قیصر کی مزاحمت اور شکست
قططین نے خود موقع پر پہنچ کر کمان اپنے ہاتھ میں لے لی مگر سلطان محمد کے خاص دستہ کا حملہ اس قدر سخت اور شدید تھا کہ قیصر زیادہ دیر تک اس کا مقابلہ نہ کر سکا۔ اب ترک سپاہیوں کو روکنے والا کوئی نہ تھا۔ یونانیوں کے بچاؤ کی کوئی امید باقی نہ رہی تھی۔ قیصر ترکی فوج کے بڑھتے ہوئے طوفان میں گھس گیا اور بہادی سے لڑتا ہوا مارا گیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے قسطنطنیہ ترک فوجوں سے بھر گیا اور تھوڑی ہی دیر میں پورے شہر پر ترکوں کا قبضہ ہو گیا۔
شہر میں داخلہ اور عبادت
ظہر کے قریب سلطان محمد اپنے وزیروں اور امیروں کے ہمراہ شہر میں داخل ہو گیا۔ سینٹ صوفیہ کے گرجا گھر کے پاس پہنچ کر وہ گھوڑے سے نیچے اترا اور اس عالی شان گرجا گھر میں داخل ہو کر جس میں گیارہ سو برس سے تین خداؤں کی پوجا کی جا رہی تھی، ایک اللہ کے حضور میں گر پڑا اور موذن کو حکم دیا کہ مسلمانوں کو اس میں عبادت کے لئے آواز دے۔ اب یہ مسجد ابا صوفیہ ہے۔
اسلامی دنیا میں جشن و مبارکباد
اس عظیم الشان فتح پر تمام اسلامی دنیا میں بے پناہ جشن منائے گئے اور ہر طرف سے بادشاہوں، سفیروں ، شاعروں اور عالموں کے پیغامات مبارکباد آنے شروع ہو گئے۔ قسطنطنیہ کی سلطان محمد فاتح کے ہاتھوں بے مثال فتح تاریخ عالم میں بے حد و حساب اہمیت کی حامل ہے۔ اس عظیم فتح سے عیسائیوں کا ایک اہم گڑھ اور مرکز ختم ہو گیا اور اس کا رد عمل یہ ہے کہ اب تک عیسائی اسے واپس لینے کی کوشش کر رہے ہیں۔
کم عمری میں عظیم فتوحات
کہتے ہیں کہ فتح قسطنطنیہ کے موقع پر سلطان محمد فاتح کی عمر صرف 26 سال تھی یعنی سکندر اعظم سے اس موقع پر جب اس نے گرا نیکولس کی مہم سر کی ہے ، تین سال بڑا تھا اور نپولین اول سے جب اس نے معرکہ لودی میں کامیابی حاصل کی تھی، تین سال چھوٹاتھا 1484 ء میں عیسائی حکومتیں خم ٹھونک کر ترکوں کے مقابلے پر آگئیں اور سلطنت عثمانیہ پر حملہ آور ہوئیں۔ سلطان محمد فاتح ڈیڑھ لاکھ فوج اور دو سو جنگی جہاز لے کر عیسائی حکومتوں کا مزاج بحال کرنے کے لئے مقابلے پر آگیا اور سربیا کے دار الحکومت بلغراد کا محاصرہ کر لیا۔ قریب تھا کہ دار السلطنت کو فتح کرلے کہ ہنگری کا مشہور سپہ سالار ہو یا پھر کمک لے کر آپہنچا۔
سربیا کی دوبارہ مہم
اس جنگ کے بعد سلطان محمد نے 1487ء میں محمود پاشا صدر اعظم کو پھر تسخیر سربیا کے لئے روانہ کیا۔ اور اس نے آتے ہی سربیا کے تمام مقبوضات فتح کر کے دولت عثمانیہ میں شامل کر لئے۔ صرف ایک شہر بلغراد اس کے ہاتھوں سے بچ گیا تھا۔ قسطنطنیہ کی عظیم الشان فتح کے بعد بھی سلطان محمد فاتح چین سے نہ بیٹھا تھا۔ وہ جنگ کا دھنی تھا اور اس کی ساری عمر میدان جنگ میں یا جنگوں کی تیاریاں کرتے ہوئے گزری تھی۔ اس زمانے میں بلقان کی سیاسی حالت اس بات کا تقاضا کر رہی تھی کہ سلطان اس جانب بھی اپنی توجہ مبذول کرے۔
بلقان کی سیاسی صورتِ حال
بلقان اور جزیرہ نما یونان میں کوئی پائیدار اور متحدہ سلطنت قائم نہ تھی بلکہ یہ علاقے مختلف امارتوں میں منقسم تھے۔ ہر علاقے کا حاکم (دوق) ہو تا تھا جو اپنی جگہ خود مختار ہوتا تھا۔ چونکہ یہ امارتیں منتشر تھیں اور ان کے مابین کسی صدی قسم کا اتحاد نہیں تھا اس لئے انہیں عثمانی خطرے کا احساس تک نہ ہوا۔ پندرہویں عیسوی کے اوائل میں اہل دینیس پیلو بونیز (بلاد موریا) جزیره کریٹ اور بحیرہ رجین کے بہت سے جزیروں پر قابض تھے۔
یونان اور بحیرہ ایجیئن کی امارتیں
اگر چہ جزیرہ نما موریا کے بعض حصے بعد میں فرانسیسیوں کے زیر تسلط آگئے تاہم ساحل کے بہترین علاقے اور بحیرہ ایجیئن کے جزائر بدستور جمہوریہ وینس کے قبضے میں رہے بعد میں ہسپانوی اور اطالوی باشندوں نے یہاں بھی آکر ڈیرے جما دیے۔اطالوی اور فرانسیسیوں میں لامتناہی جنگ و جدل اور داخلی تنازعات کا سلسلہ جاری ہو گیا اور ان علاقوں میں بد نظمی پیدا ہونے لگی جس نے کچھ مدت میں شدت اختیار کرلی۔ آخر کار فرانسیسیوں کو اطالویوں کے سامنے ہار ماننا پڑی اور وہ ان علاقوں کو خالی کر کے چلے گئے۔
یورپی طاقتوں کی باہمی کشمکش
اطالویوں نے ہسپانویوں کو بھی یہاں سے نکل جانے پر مجبور کر دیا۔ اس کشمکش کے دوران ترکوں نے بھی اپنی کاروائی جاری رکھی۔ ان کا طریقہ یہ تھا کہ پہلے تو کسی ایک فریق کے خلاف دوسرے فریق کی مدد کرتے تھے اور جب دیکھتے کہ دونوں فریق باہمی جنگ و جدل کے باعث کمزور ہو چکے ہیں تو ان کے علاقوں پر قبضہ کر لیتے تھے۔ اس بد نظمی اور انتشار کے باعث بلقان اور جزیرہ نمائے یونان کے لوگ عجیب مصیبت میں مبتلا ہو چکے تھے۔
مسلسل جنگوں کے عوام پر اثرات
آئے دن کی شورشوں کے نتیجے میں انہیں اپنے گھر بار چھوڑ کر مارا مارا پھرنا پڑتا تھا۔ ان کی غیر حاضری میں قریبی ریاستوں مثلاً البانیہ وغیرہ کے لوگ آکر ان کی جگہوں پر قابض ہو جاتے تھے اور اس طرح جنگ کا سلسلہ برابر جاری رہتا تھا۔ جس میں بیسیوں شہر اور بستیاں ویران ہو جاتی تھیں۔ سلطان محمد فاتح پہلا شخص نہیں تھا جس نے ان علاقوں پر فوج کشی کی تھی بلکہ اس سے پہلے سلطان بایزید اول اور سلطان مراد خان بھی اپنے جرنیلوں کو بھیج کر ان علاقوں کو تاخت و تاراج کر چکے تھے
سابق سلاطین کی فوجی مہمات
لیکن سلطان محمد فاتح سے پہلے کسی سلطان کے قدم یہاں مضبوطی سے جسم نہ سکے تھے اور وہ فتوحات حاصل کر کے واپس چلے آتے تھے۔ یونانی خود مختار امارتوں میں سب سے بڑی امارت ایتھنز کی تھی لیکن انتشار اور بد نظمی یہاں انتہا کو پہنچی ہوئی تھی۔ یہاں کا حاکم (دوق) مرچکا تھا۔ مرتے وقت اس نے اپنا باشین اپنی بیوی اور بچے کو بنایا تھا لیکن اس کی آنکھیں بند ہوتے ہی بیوی نے عشق و محبت کا کاروبار شروع کر دیا تھا اور ایک اور علاقے کے حاکم کو اپنی زلف کا اسیر بنا لیا تھا۔
عشقِ ممنوع اور عوام کی ناراضی
شادی کی شرط یہ طے پائی تھی کہ موخر الذکر اپنی پہلی بیوی کو طلاق دے کر کسی طرح اسے بلاک کر دے تاکہ اس کی راہ میں کوئی کانشا حائل نہ رہے۔ چنانچہ اس نے ایساہی کیا اور دونوں کی شادی ہو گئی۔ لوگوں کو یہ بات بڑی ناگوار گزری اور انہوں نے سلطان محمد فاتح کی خدمت میں درخواست کی کہ وہ ایک فوج بھیج کر دونوں کو ان کی کرتوتوں کا مزاچکھائے۔ اس نے ایک اور علاقے کے دوق کو بھیج دیا جس نے جاکر عورت کو قتل کر دیا ۔
سلطان کی آمد اور سزا کی صدا
تاہم اس علاقے کے انتشار اور بد نظمی میں کوئی کمی نہ آئی۔ یہ دیکھ کر سلطان نے اپنے ایک پر سالار عمر بن طرفان کو ایتھنز بھیجا تاکہ وہاں جا کر امن و امان اور نظم و ضبط قائم کرے اور مفسدوں اور شرارتپسندوں کو بڑی سزائیں دے۔ بعد میں سلطان نے کامل امن و امان قائم کرنے کی غرض سے خود بھی سرزمین یونان کا قصد کیا۔
جزیرہ نمائے یونان پر عثمانی پرچم
1448ء میں رو جزیرہ نمائے موریا پہنچا اور وہاں کے قلعوں پر باآسانی قابض ہو گیا پادریوں نے شہر کے ل دروازے اس کے لئے کھول دیئے اور نہایت گرم جوشی سے اس کا استقبال کیا گیا۔ موریا سے وہ ایتھنز پہنچا اور کچھ عرصے تک وہاں قیام کیا۔ دو سال کے عرصے میں جزیرہ نمائے یونان کے تمام حصوں پر سلطان کا تسلط قائم ہو گیا اور یہ علاقہ انیسویں صدی کے ربع اول تک سلطنت عثمانیہ کی عملداری میں شامل رہا۔
بلقان اور سرویا: حکمتِ عملی کی راہیں
فتح قسطنطنیہ سے قبل بلقان اور خصوصاً سرویا کے امراء کے بارے میں سلطان کی پالیسی یہ تھی کہ ان کے ساتھ دوستی اور صلح کے معاہدے کئے جائیں اور جس حد تک ممکن ہو انہیں منا کر ناراضی ختم کی جائے۔ سلطان کے لئے سرویا کے علاقے میں فوجیں بھیجنا نا ممکن تھا اس لئے اس نے معاہدے پر زور دیا۔ معاہدے کی رو سے سرویا کو ہر سال ایک قلیل رقم بطور خراج ادا کرنی پڑتی۔
فتحِ قسطنطنیہ میں وفاداری کا امتحان
سلطان کی اصل غرض یہ تھی کہ قسطنطنیہ کے محاصرے کے دوران وہ جارج برنیکوویچ کو ہنگری کے ساتھ مل جانے سے باز رکھے اور وہ اس میں کامیاب بھی ہو گیا۔ دوران محاصرہ بر نیکو و بیچ نے ایسی کوئی بات نہیں کی جس سے ترکوں کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہوتا۔ فتح قسطنطنیہ کے بعد اس نے سلطان کو مبارکباد بھی کہلا بھیجی اور سالانہ خراج بھی ادا کر دیا۔ بایں ہمہ سلطان کے دل سے اس کی سابقہ معاندانہ کاروائیوں کی یاد فراموش نہ ہوئی تھی اور وہ دل میں سرویا کو فتح کرنے کا معلم ارادہ کئے ہوئے تھا۔
بلغراد کی مہم اور دشمن کا انجام
قسطنطنیہ کی فتح سے فراغت پانے کے بعد وہ ایک زبردست لشکر لے کر بلغراد روانہ ہوا جو اگرچہ سرویا کی شمالی سرحد پر واقع تھا لیکن اس وقت ہنگری کے قبضے میں تھا۔ اس مہم کی غرض یہ تھی کہ سردیا اور ہنگری دونوں پر کاری ضرب لگائی جائے اور انہیں عثمانی مقبوضات میں شامل کر لیا جائے۔ مگر سلطان بلغراد پر تسلط حاصل کرنے میں تو کامیاب نہ ہوکا البتہ اتنا فائدہ ضرور ہوا کہ اس جنگ میں اس کا بدترین دشمن ہو نیاڈے کام آگیا۔ بر نیکو بھی مارا گیا۔
حکومت پر قبضہ اور جانشینی کی کشمکش
حکومت پر اس کی بیوی امرین کا قبضہ ہو گیا۔ کچھ عرصے بعد ایرین مرکی اور حکومت بر نیکو کے بیٹے کے ہاتھ میں آگئی۔ وہ سلطان کو خراج ادا کرتا رہا لیکن دوسرے ہی سال اس کا انتقال ہو گیا اور اس کے جانشینوں میں تخت پر قبضہ کرنے کی سخت کشمش برپا ہو گئی۔ یہ علاقہ انیسویں صدی کے اوائل تک دولت عثمانیہ کے قبضہ میں رہا۔بوسنیا کی فتح سرویا کی فتح کے چار سال بعد 1463ء میں وقوع پذیر ہوئی۔ دیگر ریاستوں کی طرح یہاں بھی جنگ اقتدار برپا تھی اور آئے دن کی بغاوتوں اور شورشوں کے باعث ملک کا امن و امان غارت ہو چکا تھا۔
بوسنیا کی فتح کی تیاری
شاہ بوسنیا اس ادھیڑ بن میں تھا کہ ترکوں سے کیسے نجات حاصل کی جائے۔ 1461ء میں شاہ بوسنیا نے پوپ کو ترکوں کے خطرے سے آگاہ کیا اور بتایا کہ ترک ہنگری، دنیس، اٹلی اور روم کو فتح کر کے پوری مسیحی دنیا پر اپنا انتدار قائم کرنا چاہتے ہیں۔ پاپائے روم کو پہلے ہی ترکی کے خطرے کا پورا احساس تھا۔ اس نے شاہ بوسنیا کی مدد کرنے کا وعدہ کر لیا۔ چنانچہ شاہ بونیا نے ترکی سے خراج کی ادائیگی کے تمام معاہدے توڑ ڈالے۔
سلطان محمد فاتح کا اچانک حملہ
اس صورتحال میں سلطان محمد فاتح نے فوراً بوسنیا پر حملہ کرنے کا ارادہ کر لیا۔ یہ دیکھ کر شاہ بوسنیا بو کھلا اٹھا اور فوراً خراج ادا کر کے پندرہ ماہ کے لئے صلح کا معاہدہ کر لیا۔ لیکن سلطان فاتح سمجھ چکا تھا لہذا اس نے انتظار کئے بغیر بوسنیا پر حملہ کر دیا۔ یہ حملہ اتنا اچانک تھا کہ بوسنیائی فوجوں کو مقابلہ کرنے کا موقع ہی نہ مل سکا اور عثمانی فوجیں بغیر کسی مزاحمت کے شہر میں داخل ہو گئیں۔ شہر پر قبضہ کرنے کے بعد سلطان محمد فاتح نے وہاں کے حاکم کو پہاڑی سے نیچے گرا کر مار دینے کا حکم صادر کیا۔
ہرزیگونیا کا رخ اور صلح کا معاہدہ
چنانچہ اس حکم کی فوراً تعمیل کی گئی اور وہ پہاڑی آج تک اسی حاکم ( راڈرک) کے نام سے موسوم ہے۔ یہاں سے فراغت کے بعد سلطان نے ہرزیگونیا کا رخ کیا۔ ہرزیگونیا بھی داخلی جھگڑوں کا شکار تھا اور داخلی کشمکش کی وجہ سے اس کی طاقت بہت کمزور ہو چکی تھی۔ لہٰذا اسے مجبوراً خراج کی ادائیگی کا اقرار کر کے صلح کا معاہدہ کرنا پڑا۔
بوسنیا میں اسلام قبول کرنے والے سردار
سلطان محمد فاتح کے بیٹے سلطان بایزید ثانی کے عہد میں اسے مکمل طور پر صلح کر کے سلطنت عثمانیہ میں شامل کر لیا گیا۔ بوسنیا کی فتح کو اس لحاظ سے خاص اہمیت حاصل ہے کہ دیگر بلقانی ریاستوں کے برعکس یہاں کے سرپر آوردہ لوگوں اورقبائلی سرداروں نے ریاست کے فتح ہونے کے بعد اسلامی تعلیمات سے متاثر ہو کر اسلام قبول کر لیا تھا جس پر حکومت نے انہیں بک کا خطاب دے کر انہیں ان کے علاقوں کا حاکم مقرر کر دیا تھا۔
البانیہ پر حملے اور جان کا سٹریو کی وفاداری
بوسنیا ہرزیگونیا کے بعد البانیہ کی باری آئی۔ البانیہ پر ترکوں کے حملوں کا آغاز پندرہویں صدی کی ابتداء میں ہوا جس کے نتیجے میں وہاں کے ایک قبیلے کے سردار جان کا سٹریو نے اطاعت قبول کر کے اپنے چار لڑکے بطور ضمانت سلطان ترکی مراد خان مانی کی خدمت میں بھیج دیئے۔ سلطان مراد (سلطان محمد فاتح کے والد نے ان میں سے ایک لڑکے کی لیاقت و ذہانت سے متاثر ہو کر ایک صوبے کا حاکم بنا کر اسکندر بک کے لقب سے سرفراز کیا۔
اسکندر بک کی بغاوت اور ترکوں کی مشکلات
اس نے عثمانی لشکر میں شامل ہو کر سرویا اور ونیس کے خلاف متعدد کارہائے نمایاں سرانجام دیئے۔ جان کا سٹریو کے انتقال کے بعد سلطان مراد نے اس کی ریاست سلطنت عثمانیہ میں شامل کرلی۔ یہ بات اسکندر بک کو بہت ناگوار گزری۔ چنانچہ وہ سلطان مراد کو چھوڑ کر بھاگ گیا اور دوبارہ مسیحیت اختیار کر کے ترکوں کے خلاف اعلان جنگ کر ادیا۔حکومت دنیس نے بھی ترکوں کے مقابلے میں اسکندر بک کا ساتھ دیا۔ اسکندر یک کی وجہ سے ترکوں کو البانیہ کی فتح بہت مہنگی پڑی۔
اسکندر بک کی مزاحمت اور ترکوں کی مشکلات
ورنہ ترک با آسانی اٹلی پر حملہ کر کے مسیحیت کے مرکز کو اپنے قبضے میں لے سکتے تھے لیکن اسکندر بک نے اپنی زبردست جد و جہد کے باعث ان کے منصوبوں کو پورا نہ ہونے دیا اور ایک لمبے عرصے تک ترکوں کے راستے میں سنگ گراں بنا رہا۔ اسکندر بک کی وفات کے بعد سلطان محمد فاتح نے پورے البانیہ کو با آسانی مسخر کر کے اپنی سلطنت میں شامل کر لیا۔ جمہوریہ وینس کی فوجوں کو بھی اس نے ملک سے باہر نکال دیا اور اس طرح البانیہ کے ساحلی علاقے بھی جن پر اس سے قبل دیفیس نے تسلط جما رکھا تھا، سلطان محمد فاتح کے قبضے میں آگئے۔
اٹلی میں اولین قدم اور ٹورنٹو کا محاصرہ
عین اس روز جب مسیح پاشا کو روڈس میں ہزیمت اٹھانا پڑی تھی، فاتح کریمیا احمد کوک پاشا نے سرزمین اٹلی میں قدم رکھا جہاں اس وقت تک کوئی عثمانی سپاہی نہ پہنچ سکا تھا۔ اٹلی کی فتح کے لئے ٹورنٹو پر قبضہ کرنا ضروری تھا کیونکہ یہ شہر اپنے محل وقوع کے لحاظ سے گویا اٹلی کا دروازہ تھا۔ احمد پاشا نے خشکی اور سمندر دونوں جانب سے اس پر حملہ کردیا۔
ٹورنٹو کی فتح اور نور نو پر قبضہ
اہل شہر نے بھرپور مدافعت کی اور نہایت سرگرمی سے ترک مسلمانوں کا مقابلہ کیا لیکن وہ صرف چند روز ہی مقابلہ کر سکے اور اگست 1480ء کو عثمانی فوجیں نہایت فاتحانہ طمطراق کے ساتھ ٹورنٹو میں داخل ہوئیں اور شہریر ترکوں کا مکمل قبضہ ہو گیا۔نور نو جیسے مضبوط شہر اور بندرگاہ پر قابض ہونے کے بعد سلطان محمد فاتح کے لئے اٹلی کی فتح کا دروازہ کھل گیا۔
سلطان کی نئی مہمات اور اچانک وفات
دوسرے سال وہ کسی جدید مہم کے لئے فوجیں جمع کر رہا تھا اور خیال تھا کہ ٹورنٹو کے بعد غالبا وہ روم پر حملہ آور ہونے والا ہے لیکن اچانک 1510ء میں بگوزہ کے مقام پر اس کا انتقال ہو گیا۔ سلطان محمد فاتح کی اچانک وفات پر یورپ میں بہت جشن منایا گیا۔ سلطان نے اپنے پیچھے دو بیٹے چھوڑے جن میں سے ایک کا نام بایزید تھا اور دوسرے کا نام جمشید ۔ دونوں بھائیوں میں تخت کے حصول کے لئے اختلاف بھی برپا ہوا جس میں بایزید کو کامیابی حاصل ہوئی۔
فتح قسطنطنیہ اور عظمت کا اعزاز
شاہی مقبرے کے لئے جو زمین قسطنطنیہ میں سلطان محمد فاتح نے پہلے سے مخصوص کی ہوئی تھی اس میں سلطان کو دفن کیا گیا۔ سلطان محمد فاتح تاریخ اسلام کا وہ عظیم ترین فاتح ہے جسے قسطنطنیہ فتح کر کے رسول اللہ کی پیشین گوئی کو پورا کرنے کی سعادت نصیب ہوئی۔