پاکستان کی بنیاد کسی اتفاقی حادثے کا نتیجہ نہیں تھی بلکہ یہ ایک سوچا سمجھا خواب، ایک فلسفیانہ نظریہ اور ایک عملی جدوجہد کی دین تھی۔ اس خواب کے خالق شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبال تھے، جنہوں نے نہ صرف مسلمانوں کے زوال کی وجوہات پر روشنی ڈالی بلکہ ان کے عروج کی راہ بھی متعین کی۔ اقبال کا خواب صرف ایک ریاست کا قیام نہیں تھا بلکہ ایک ایسی اسلامی تہذیب کا احیاء تھا جو قرآن و سنت کی روشنی میں انسانیت کی رہنمائی کرے۔
مسلمانوں کی حالتِ زار اور اقبال کی فکر
اقبال کے زمانے میں برصغیر کے مسلمان سیاسی، سماجی اور تعلیمی طور پر زوال پذیر تھے۔ انگریز سامراج اور ہندو اکثریت کے دباؤ نے انہیں مایوسی اور غلامی کی تاریکی میں دھکیل دیا تھا۔ اقبال نے اپنی شاعری اور تقاریر کے ذریعے مسلمانوں کو اپنی کھوئی ہوئی خودی پہچاننے کی دعوت دی۔
“خودی کو کر بلند اتنا…” کا پیغام دراصل مسلمان کو اپنی اصل پہچان یاد دلانا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ مغربی تہذیب کی نقالی مسلمانوں کو نجات نہیں دے سکتی، بلکہ ان کی اصل طاقت قرآن، اسلام اور اپنی روحانی اقدار میں ہے۔
خطبہ الہ آباد 1930 – خواب کی وضاحت
اقبال کے خواب کی سب سے واضح جھلک خطبہ الہ آباد (1930) میں نظر آتی ہے۔ اس خطبے میں انہوں نے برصغیر کے شمال مغربی علاقوں (پنجاب، سندھ، بلوچستان اور سرحد) کو ملا کر ایک الگ مسلم ریاست کا خاکہ پیش کیا۔
اہم نکات:
مسلمانوں کے سیاسی و سماجی حقوق صرف اسی صورت محفوظ رہ سکتے ہیں جب وہ اپنی الگ ریاست قائم کریں۔
اسلام صرف مذہب نہیں بلکہ ایک مکمل نظامِ حیات ہے، جسے نافذ کرنے کے لیے ایک آزاد خطہ چاہیے۔
اقبال نے یہ بھی کہا کہ مسلمان برصغیر کی دوسری قوموں کے ساتھ پرامن رہنا چاہتے ہیں لیکن اپنی شناخت قربان نہیں کر سکتے۔
اقبال اور دو قومی نظریہ
اقبال کے خواب کی بنیاد دراصل دو قومی نظریہ تھا۔
اقبال نے وضاحت کی کہ مسلمان اور ہندو دو الگ قومیں ہیں: ان کا مذہب، تہذیب، تاریخ اور طرزِ حیات مختلف ہے۔
مسلمانوں کی بقا اسی میں ہے کہ وہ اپنی علیحدہ سیاسی و تہذیبی شناخت کو محفوظ کریں۔
اگر مسلمانوں نے ہندو اکثریت میں ضم ہونے کی کوشش کی تو وہ ہمیشہ غلامی کا شکار رہیں گے۔
شاعری میں خواب کی عکاسی
اقبال کے خواب کو سمجھنے کے لیے ان کی شاعری سب سے بڑا ذریعہ ہے۔
“طلوع اسلام“ میں انہوں نے مسلمانوں کو عروج کی نوید سنائی۔
“مسجد قرطبہ“ میں اسلامی تہذیب کی شان و شوکت کو اجاگر کیا۔
“شکوہ” اور “جواب شکوہ“ میں مسلمانوں کے زوال کی وجوہات اور اصلاح کی راہ دکھائی۔
ان کی شاعری میں ایک ہی پیغام تھا
مسلمان اپنی اصل پہچان کی طرف لوٹیں، قرآن سے رشتہ جوڑیں، اور اپنی اجتماعی طاقت کو پہچانیں۔
اقبال اور قائداعظم
اقبال کا خواب حقیقت میں ڈھالنے کے لیے انہیں ایک عملی رہنما کی ضرورت تھی، اور یہ رہنما محمد علی جناح کی صورت میں ملا۔
اقبال نے جناح کو خط لکھ کر واضح کیا کہ برصغیر کے مسلمانوں کے لیے ایک الگ ریاست ناگزیر ہے۔
انہوں نے جناح کو “مسلمانوں کا نجات دہندہ” قرار دیا اور انہیں قیادت کے لیے تیار کیا۔
اگر اقبال کا خواب فکری بنیاد تھا تو جناح کی جدوجہد اس خواب کی عملی تعبیر تھی۔
پاکستان کا قیام – خواب کی تکمیل
1947 میں جب پاکستان وجود میں آیا تو یہ صرف ایک سیاسی کامیابی نہیں تھی بلکہ یہ اس خواب کی تعبیر تھی جو اقبال نے مسلمانوں کو دکھایا تھا۔
لاکھوں مسلمانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔
ہجرت، قربانیاں اور مشکلات کے باوجود ایک الگ وطن حاصل کیا گیا۔
پاکستان کے پرچم کے پیچھے دراصل اقبال کے افکار اور نظریات کی روشنی تھی۔
اقبال کا خواب اور آج کا پاکستان
سوال یہ ہے کہ کیا آج کا پاکستان واقعی اقبال کے خواب کی تعبیر ہے؟
اقبال چاہتے تھے کہ پاکستان ایک اسلامی فلاحی ریاست بنے جہاں عدل، مساوات اور تعلیم عام ہو۔
لیکن بدقسمتی سے ہم ابھی تک اس مقصد کو پوری طرح حاصل نہیں کر سکے۔
کرپشن، جہالت اور ناانصافی اقبال کے خواب سے دوری کی علامت ہیں۔
تاہم، امید کی کرن اب بھی باقی ہے
تعلیم کے فروغ، عدل و انصاف کے قیام اور اسلامی اصولوں کی طرف واپسی ہی پاکستان کو اس خواب کی تعبیر بنا سکتی ہے۔
نتیجہ
اقبال کا خواب محض ایک سیاسی مطالبہ نہیں تھا بلکہ ایک روحانی اور تہذیبی انقلاب کا خاکہ تھا۔ آج ہم پر یہ ذمہ داری ہے کہ اس خواب کو صرف تاریخ کی کتابوں تک محدود نہ رکھیں بلکہ اپنی عملی زندگی میں نافذ کریں۔ اگر ہم نے قرآن و سنت کی روشنی میں ایک منصفانہ اور مضبوط نظام قائم کر لیا تو پاکستان واقعی اقبال کے خواب کی جیتی جاگتی تصویر بن جائے گا۔